اتوار 4 اکتوبر 2026 - 11:09
سائبر اسپیس میں شکوک و شبہات پر مناظرے اور ان کا جواب دینے میں حوزاتِ علمیہ کے جدید طریقۂ کار

حوزہ / مدرسہ علمیہ فاطمہ الزہرا (س)، اسلام آبادِ غرب کی محققہ اور’’بانوی کرامت‘‘ فیسٹیول کی منتخب طالبہ نے ڈیجیٹل دنیا میں شبہات کی بدلتی ہوئی نوعیت پر زور دیتے ہوئے کہا: حوزوی علوم کو جدید ٹیکنالوجی اور ابلاغی مہارتوں کے ساتھ یکجا کرنا، طلبہ کے لیے ’’جنگی روایتوں‘‘ میں مؤثر کردار ادا کرنے کی ایک ضروری حکمتِ عملی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ علمیہ فاطمہ الزہرا (س)، مغربی اسلام آباد کی طالبہ اور’’بانوی کرامت‘‘ فیسٹیول کے ممتاز افراد میں شامل محترمہ آزاده بہرامی نے ’’سائبر اسپیس میں شکوک و شبہات پر مناظرے اور ان کا جواب دینے میں حوزاتِ علمیہ کے جدید طریقۂ کار‘‘ کے عنوان سے مقالہ پیش کر کے اس فیسٹیول میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

انہوں نے حوزہ نیوز کے نمائندہ کے ساتھ اپنی گفتگو میں تبلیغی طریقوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے شبہات کا جواب دینے کے لیے حوزوی علوم کو جدید ٹیکنالوجی اور علومِ انسانی کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔

محترمہ بہرامی نے اس موضوع کے انتخاب کی اپنی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا: سوشل میڈیا کا روز افزوں پھیلاؤ اور شبہات کی شکل میں آنے والی تبدیلیاں میرے لیے اس موضوع کے انتخاب کا بنیادی محرک تھیں۔ آج شبہات طویل علمی استدلال کی صورت میں سامنے نہیں آتے بلکہ مختصر پیغامات، تصاویر، مختصر ویڈیوز اور جذباتی بیانیوں کے ذریعہ پھیلائے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود جواب دینے کے روایتی طریقے مضبوط علمی پشت پناہی رکھنے کے باوجود ان نئی صورتوں کی رفتار اور تنوع کا تنہا مقابلہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: میں نے اس مقالے میں ڈیجیٹل ماحول میں دینی مناظرے کے تقاضوں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی نظام جیسی جدید ٹیکنالوجیز کی صلاحیتوں کو طلبہ کے لیے ضروری ابلاغی اور نفسیاتی مہارتوں کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔

محترمہ بہرامی نے کہا: طلبہ اور دینی مبلغین کو اس میدان میں کامیابی کے لیے دینی علوم کے علاوہ میڈیا لٹریسی، قانع کنندہ زبان، ذہانت اور تنازعات کے سلجھاؤ پر کنٹرول جیسی مہارتوں کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ دینی معارف اور نوجوان نسل کے سوالات کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کرسکیں۔

انہوں نے مقالہ لکھنے کے دوران درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا: سب سے بڑا چیلنج موضوع کا کثیرالجہتی ہونا اور دینی مباحث کو ابلاغ، نفسیات اور میڈیا کے شعبوں کے ساتھ مربوط کرنا تھا۔ اس چیلنج پر قابو پانے کے لیے میں نے توصیفی و تحلیلی طریقۂ کار اپنایا اور جدید علمی ماخذ سے استفادہ کرتے ہوئے نظری اور عملی نتائج کو یکجا کیا۔بہرحال اس تحقیق میں موضوع کو صرف دینی مواد کے زاویے سے نہیں دیکھا گیا بلکہ ٹیکنالوجی اور ابلاغی مہارتوں کو بھی اس کے ساتھ ضروری وسائل کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha